عمرہ اور سعودی امیگریشن کی تصدیق شدہ معلومات کا پورٹل
سفرِ عمرہ کے دوران حرمین شریفین کے تاریخی، مقدس اور ایمانی مقامات کی تفصیلی گائیڈ۔
عمرہ کی ادائیگی کے بعد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ان مقدس مقامات کی زیارت کرنا ایمان کو تازگی بخشتا ہے اور زائرین کو اسلامی تاریخ کے عظیم واقعات کی یاد دلاتا ہے[cite: 2]۔ ذیل میں دونوں شہروں کی اہم ترین زیارات کی تفصیل دی گئی ہے:
یہ وہ عظیم پہاڑ ہے جہاں غارِ حرا واقع ہے[cite: 2]۔ اسی غار میں نبی کریم ﷺ عبادت فرمایا کرتے تھے اور یہیں کائنات کی سب سے آخری کتاب قرآن مجید کی پہلی وحی (سورہ العلق کی ابتدائی آیات) نازل ہوئی[cite: 2]۔
مکہ مکرمہ کا وہ تاریخی پہاڑ جہاں غارِ ثور موجود ہے[cite: 2]۔ ہجرتِ مدینہ کے وقت رسول اللہ ﷺ اور آپ کے وفادار رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قریشِ مکہ کے تعاقب سے بچنے کے لیے اس غار میں تین دن اور تین راتیں پناہ لی تھی[cite: 2]۔
عرفات وہ عظیم میدان ہے جہاں حج کا سب سے بڑا رکن "وقوفِ عرفات" ادا کیا جاتا ہے۔ اسی میدان میں ایک چھوٹا پہاڑ ہے جسے جبلِ رحمت کہا جاتا ہے[cite: 2]۔ اس پہاڑ کے قریب نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا آخری تاریخی خطبہ دیا تھا۔
منیٰ کو خیموں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، جہاں حج کے ایام میں حجاج کرام قیام کرتے ہیں اور جمرات (شیطانوں) کو کنکریاں مارتے ہیں۔ منیٰ اور عرفات کے درمیان مزدلفہ کا میدان واقع ہے جہاں حجاج رات گزارتے ہیں[cite: 2]۔
مدینہ منورہ پہنچ کر سب سے بڑی سعادت مسجدِ نبوی میں حاضری اور سرورِ کائنات ﷺ کے روضہ مبارک پر کھڑے ہو کر سلام پیش کرنا ہے[cite: 2]۔ روضہ انور اور منبرِ رسول کے درمیانی حصے کو ریاض الجنہ (جنت کا باغ) کہا جاتا ہے، جہاں نفل نماز پڑھنے کی بہت بڑی فضیلت ہے۔
یہ اسلام کی تاریخ کی سب سے پہلی باقاعدہ مسجد ہے[cite: 2]۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق جو شخص اپنے گھر (یا ہوٹل) سے اچھی طرح وضو کر کے نکلے اور مسجدِ قبا میں جا کر دو رکعت نفل نماز ادا کرے، اسے ایک مکمل عمرے کے برابر ثواب ملتا ہے[cite: 2]۔
یہ وہ تاریخی مسجد ہے جہاں نماز کے دوران تحویلِ قبلہ کا حکم نازل ہوا تھا[cite: 2]۔ حضور اکرم ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھا رہے تھے کہ وحی کے ذریعے حکم آیا کہ اپنا رخ مسجدِ اقصی (بیت المقدس) سے بدل کر خانہ کعبہ (مکہ مکرمہ) کی طرف کر لیں[cite: 2]۔
مدینہ منورہ کا وہ تاریخی میدان جہاں حق و باطل کا دوسرا بڑا معرکہ "غزوہ احد" لڑی گئی[cite: 2]۔ یہاں احد پہاڑ کے دامن میں اس جنگ میں شہید ہونے والے 70 صحابہ کرام کے مزارات ہیں، جن میں حضور ﷺ کے پیارے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی مدفون ہیں[cite: 2]۔ یہاں حاضر ہو کر سلام پیش کرنا مسنون ہے۔