umrah.immigrationpk.net

عمرہ اور سعودی امیگریشن کی تصدیق شدہ معلومات کا پورٹل

عمرہ کی فضیلت اور برکات

قرآن مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں سفرِ عمرہ کی اہمیت، فضائل اور اخروی ثواب۔

عمرہ ایک بہترین بدنی اور مالی عبادت ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کرتا ہے[cite: 2]۔ شریعتِ اسلامیہ میں عمرہ کی بے شمار فضیلتیں اور برکات بیان کی گئی ہیں[cite: 2]۔ ذیل میں مستند احادیث کی روشنی میں عمرہ کے فضائل تفصیل کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں:


1. پچھلے گناہوں کا کفارہ اور معافی

عمرہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے[cite: 2]۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا"

ترجمہ: "ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیان کے تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے" (صحیح بخاری)[cite: 2]۔ یعنی اگر کوئی شخص ایک عمرہ کرنے کے بعد دوسرا عمرہ کرتا ہے، تو دونوں عمروں کے درمیانی عرصے میں ہونے والے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں[cite: 2]۔

2. فقر، تنگی اور غریبی کا خاتمہ

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ عمرہ پر جانے سے مال کم ہوتا ہے، لیکن فرمانِ رسول ﷺ اس کے بالکل برعکس ہے[cite: 2]۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"تابعوا بين الحج والعمرة، فإنهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد والذهب والفضة"

ترجمہ: "حج اور عمرہ پے در پے (یعنی بار بار) کیا کرو، کیونکہ یہ دونوں عبادتیں فقر (غریبی) اور گناہوں کو اس طرح دور کرتی ہیں جیسے لوہار کی بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کچیل کو دور کرتی ہے" (جامع ترمذی)[cite: 2]۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عمرہ کرنے سے اللہ پاک رزق میں برکت عطا فرماتا ہے[cite: 2]۔

3. رمضان المبارک میں عمرہ کا حج کے برابر ثواب

رمضان کے مہینے میں عمرہ کرنے کی فضیلت عام دنوں سے کہیں زیادہ ہے[cite: 2]۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک صحابیہ سے گفتگو فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا:

"فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ اعْتَمِرِي فِيهِ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً مَعِي"

ترجمہ: "جب رمضان کا مہینہ آئے تو تم اس میں عمرہ کر لینا، کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ثواب رکھتا ہے" (صحیح مسلم)[cite: 2]۔ (یاد رہے کہ اس سے حج کا شرعی فرض ساقط نہیں ہوتا، بلکہ یہ صرف ثواب کی زیادتی کا بیان ہے)[cite: 2]۔

4. زائرینِ عمرہ اللہ کے مہمان ہیں

عمرہ کرنے والے مسافر عام مسافر نہیں ہوتے، بلکہ انہیں اللہ کا مہمان (وفد اللہ) کہا گیا ہے[cite: 2]۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ "حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں، اگر وہ اللہ سے دعا مانگیں تو اللہ ان کی دعا قبول فرماتا ہے، اور اگر وہ بخشش طلب کریں تو اللہ انہیں بخش دیتا ہے" (سنن ابن ماجہ)[cite: 2]۔

5. خواتین کے لیے عمرہ کا ثواب جہاد کے برابر

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا خواتین پر بھی جہاد فرض ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، ان پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں، اور وہ 'حج اور عمرہ' ہے" (سنن ابن ماجہ)[cite: 2]۔ لہذا خواتین کے لیے یہ سفر عظیم اخروی انعامات کا باعث ہے[cite: 2]۔